Sunday, August 30, 2015

!آزاد ہوں، تھوڑا آزاد رہنے دو مجھ کو

لکھنا چاہتا ہوں بہت کچھ پر لکھ نہیں پاتا، 
اپنے احساس کو ان الفاظ میں قید کر نہیں پاتا.


آزاد ہوں، تھوڑا اور اڑنے دو مجھ کو، 
قید نہ کرو، کسی ایک خیال میں مجھ کو. 


بہت کچھ ہے کہنے کو، پر کہا نہیں جاتا، 
کچھ باتوں کو بار بار یاد کیا نہیں جاتا.


آزاد ہوں، تھوڑا آزاد رہنے دو مجھ کو، 
اس ظالم سماج سے تھوڑا اکیلا رہنے دو مجھ کو.


ہونے دو جیسا ہوتا چلا جاتا ہے نہ روکو اس کو، 
ہوئی خدا کی مرضی اگر، کوئی نہ روک پایگا پھر اس کو.

رکھو یقین اور نہ پریشان کرو خود کو، 
آزاد ہوں، تھوڑا آزاد رہنے دو مجھ کو. 

4 comments: