Sunday, August 2, 2015

...خاموشی کی تلاش، میری زبانی

خاموشی کی تلاش میں،نکل پڑے ہیں، 
دنیا سے الگ، تھوڑے ہو سے چکے ہیں. 

جنگ ہے اپنی، ہے مفاد بھی اپنا، 
غلط یا سہی، ہے یہ راز بھی اپنا. 

فرق چھوٹی چیز ہے، پر پڑتا کسی کو نہیں، 
احساس ہے وہ ہنر، جو ساتھ جنم لیتا نہیں.

مجبوری انسان کو، سکھا بہت کچھ دیتی ہے، 
خاموشی انسان کی، بول بہت کچھ جاتی ہے. 

قدر کی امید ہے، سانسیں رکھنے سے پہلے، 
کہیں تڑپ نہ اٹھو پھر، آغوش کے اندھیرے میں.  

سورج ڈھلتا ہے، وقت گزرتا ہے، 
نئے لوگ ملتے ہیں، کارواں پھر چلتا ہے. 

پچھتانے کا کوئی، پھر فائدہ نہیں، 
جو وقت ہے ابھی، درست کرلو سبھی. 

گئے جو لوگ، وہ واپس نہیں آتے، 
آتی ہیں صرف باتیں، لوٹ  کے ہر موڑ پے. 

جینا کرتی ہیں پھر دشوار ایک  بار،
پر سکھا جاتی ہیں، ایک نیا ڈھنگ جینے کا. 

خاموشی کی تلاش میں، نکل پڑے ہیں، 
درست کرنے میں، تھوڑا وقت خود کو لگے ہیں. 

1 comment:

  1. Ehsas kr ke usaay alfaaz dena, wah kia khubsurat likha ha!!

    ReplyDelete